اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی اعلیٰ حکام کا حکم جنگی جرم کے ارتکاب کا جواز نہیں بن سکتا، اور جنگی جرائم کے ارتکاب کو "بالادست کے حکم" کی بنیاد پر درست قرار دینا مجرموں کو فوجداری ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکمران بین الاقوامی انسانی قانون، اخلاقی اصولوں اور انسانی تہذیب کی باقی ماندہ اقدار کو جنگ اور خونریزی کی اپنی "لا متناہی خواہش" کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔
بقائی کے مطابق پلوں، بجلی گھروں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی پالیسی واضح طور پر غیر قانونی اور مجرمانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات انتقامی کارروائی اور اجتماعی سزا کے زمرے میں آتے ہیں، جنہیں بین الاقوامی قانون اور خود امریکی قانون کے تحت صریحاً جنگی جرم قرار دیا گیا ہے، بالخصوص امریکی جنگی جرائم کے قانون (War Crimes Act) کی دفعہ 2441 کے مطابق۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جرائم پر مدتِ سماعت (Statute of Limitations) کا اطلاق نہیں ہوتا، جبکہ امریکی فوجی ضابطۂ انصاف (Uniform Code of Military Justice) اور امریکی وزارتِ دفاع کی قانونِ جنگ ہدایت نامہ بھی واضح کرتے ہیں کہ فوجیوں کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ حکام کے واضح طور پر غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے سے انکار کریں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران قانون شکنی اور جارحیت کے مقابلے میں پوری ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔
آپ کا تبصرہ